نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

‎حکایت ‏نمبر ‏52 ‏ ‏ ‏عبداللہ ‏بن ‏مبارک ‏اور ‏سید ‏زادہ

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ ایک بڑے مجمع کے ساتھ مسجد سے نکلے تو ایک سید زادہ نے ان سے کہا۔
     اے عبد اللہ! یہ کیسا مجمع ہے؟ دیکھ میں فرزند رسول ہوں اور تیرا باپ تو ایسا نہ تھا، حضرت عبداللہ بن مبارک نے جواب دیا ، میں وہ کام کرتا ہوں جو تمہارے نانا جان نے کیا تھا اور تم نہیں کرتے اور یہ بھی کہا کہ بے شک تم سید ہو اور تمہارے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور میرا والد ایسا نہ تھا مگر تمہارے والد سے علم کی میراث باقی رہی، میں نے تمہارے والد کی میراث لی میں عزیز اور بزرگ ہوگیا تم نے میرے والد کی میراث لی تم عزت نہ پاسکے ۔
     اسی رات خواب میں حضرت عبداللہ بن مبارک نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ چہرۂ مبارک آپ کا متغیر ہے، عرض کیا یارسول اللہ! یہ رنجش کیوں ہے؟ فرمایا! تم نے میرے ایک بیٹے پر نکتہ چینی کی ہے عبداللہ بن مبارک جاگے اور اس سید زادہ کی تلاش میں نکلے تاکہ اس سے معافی طلب کریں، ادھر اس سید زادہ نے بھی اسی رات خواب میں حضور اکرم کو دیکھا اور حضور نے اس سے یہ فرمایا کہ بیٹا اگر اچھا ہوتا تو وہ تمہیں کیوں ایسا کلمہ کہتا وہ سید زادہ بھی جاگا اور حضرت عبداللہ بن مبارک کی تلاش میں نکلا چنانچہ دونوں کی ملاقات ہوگئی اور دونوں نے اپنے اپنے خواب سناکر ایک دوسرے سے معذرت طلب کرلی۔
(تذکرۃ الاولیاء صفحہ173)

ســـبق : ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم امت کی ہر بات پر شاہد اور ہر بات سے باخبر ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت رکھنے والی کسی چیز پر نکتہ چینی کرنا حضور کی خفگی کا موجب ہے۔

تبصرے

Popular Posts

حکایت ‏نمبر ‏29 ‏ ‏ ‏ ‏جنگل ‏کی ‏ہرنی

    ایک جنگل میں ایک ہرنی رہتی تھی اس کے دو بچے تھے ایک بار وہ باہر نکلی تو کسی شکاری نے راہ میں جال بچھا رکھا تھا بے خبر ہرنی اس جال میں پھنس گئی جب اس نے دیکھا کہ میں تو پھنس گئی ہوں تو بڑی پریشان ہوئی اس کی خوش قسمتی دیکھئے کہ اسی جنگل میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہوئے اسے نظر آئے جب اس نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پکاری یارسول اللہ! مجھ پر رحم فرمائیے حضور نے اس کی پکار سنی اور اس کے پاس تشریف لاکر فرمایا کیا حاجت ہے؟ وہ بولی حضور! میں اس اعرابی کے جال میں پھنس گئی ہوں میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو اس قریب کے پہاڑ میں ہیں تھوڑی دیر کی لئے آپ میری ضمانت دے کر اس جال سے مجھے آزاد کردیجئے تاکہ میں آخری بار ایک مرتبہ بچوں کو دودھ پلاآؤں ، حضور میں دودھ پلاکر  پھر یہیں واپس آجاؤں گی، حضور نے فرمایا اچھا جا میں تمہاری ضمانت دیتا ہوں اور تمہاری جگہ یہیں ٹھہرتا ہوں، پچوں کو دودھ پلاکر جلدی واپس آجانا۔ چنانچہ ہرنی کو آپ نے رہا کردیا اور وہاں خود قیام فرما ہوگئے ۔      اعرابی جو مسلمان نہ تھا کہنے لگا، اگر می...

حکایت نمبر 56 شیطان کا تھوک

خدا نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا مبارک تیار فرمایا تو فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے اس پتلے مبارک کی زیارت کرتے تھے ۔مگر شیطان لعین حسد کی آگ میں جل بھن گیا۔ اور ایک مرتبہ اس مردود نے بغض و کینہ میں آکر حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے مبارک پر تھوک دیا یہ تھوک حضرت آدم علیہ السلام کی ناف مبارک کے مقام پر پڑی ۔ خداتعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس جگہ سے اتنی مٹی نکال کر اس مٹی کا کتا بنادو ۔     چنانچہ اس شیطانی تھوک سے ملی ہوئی مٹی کا کتا بنادیا گیا۔ یہ کتا آدمی سے مانوس اس لئے ہے، کہ مٹی حضرت آدم علیہ السلام کی ہے ، اور پلید اس لئے ہے کہ تھوک شیطان کا ہے ، اور رات کو جاگتا اس لئے ہے کہ ہاتھ اسے جبریل کے لگے ہیں.  (1روح البیان صــ68 جلد )  *ســبق*: شیطان کے تھوکنے سے حضرت آدم علیہ السلام کا کچھ نہیں بگڑا ، بلکہ مقام ناف شکم کے لئے وجہ زینت بن گیا۔ اسی طرح اللہ والوں کی بارگاہ میں گستاخی کرنے سے ان اللہ والوں کا کچھ نہیں بگڑتا ، بلکہ ان کی شان اور چمکتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ والوں کو حسد و نفرت کی نگاہ سے دیکھنا شیطانی کام...

حکایت نمبر 61 حضرت ابراہیم علیہ السلام اور چار پرندے

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روز سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا ہوا دیکھا ۔آپ نے دیکھا کہ سمندر کی مچھلیاں اس کی لاش کھارہی ہیں ۔اور تھوڑی دیر کے بعد پھر پرندے آکر اس لاش کو کھانے لگے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ جنگل کے کچھ درندے آئے اور وہ بھی اس لاش کو کھانے لگے۔آپ نے یہ منظر دیکھا تو آپ کو شوق ہوا کہ (آپ ملاحظہ فرمائیں ) کہ مردے کس طرح زندہ کئے جائے گے چنانچہ آپ نے خدا سے عرض کیا ۔ الٰہی! مجھے یقین ہے کہ تو مردوں کو زندہ فرمائے گا ۔ اور ان کے اجزاء دریائی جانوروں پرندوں اور درندوں کی پیٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں ۔خدا نے فرمایا اچھا اے خلیل ! تم چار پرندے لے کر انہیں اپنے ساتھ ملالو تاکہ اچھی طرح انکی شناخت ہو جائے پھر انہیں ذبح کرکے ان کے اجزاء باہم ملا جلا کر انکا ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو اور پھر انکو بلاؤ اور دیکھو وہ کس طرح زندہ ہوکر تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔                   چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مور، کبوتر، مرغ اور کوا یہ چار پرندے لئے اور انہیں ذبح کیا ۔اور ان...