نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حکایت ‏نمبر37 ‏ ‏ ‏حضور ‏صلی اللہ علیہ وسلم کا غسل مبارک

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل مبارک کے وقت صحابہ کرام علیہم الرضوان سوچنے لگے اور آپس میں کہنے لگے کہ جس طرح دوسرے لوگوں کے کپڑے اتار کر ان کو غسل دیا جاتا ہے کیا اسی طرح حضور کے کپڑے مبارک اتارکر حضور کو غسل دیا جائے گا یا حضور کو کپڑوں سمیت غسل دیا جائے گا؟ اس بات پر گفتگو کررہے تھے کہ اچانک سب پر نیند طاری ہوگئی اور سب کے سر ان کے سینوں پر ڈھلک آئے پھر سب کو ایک آواز آئی ، کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا تم جانتے نہیں یہ کون ہیں؟ خبردار!" یہ رسول اللہ ہیں۔ ان کے کپڑے نہ اتارنا انہیں کپڑوں سمیت ہی غسل دو " پھر سب کی آنکھیں کھل گئ اور حضور کو کپڑوں سمیت ہی غسل دیا گیا۔

(مواہب لدنیہ صـــ378 جلد 2)
(مشکوٰۃ شریف صـــ537)

سبــــق: ہمارے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سب سے ممتاز اور برگزیدہ ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں جو ان کی مثل ہو آپ کی یہ زندگی، آپ کا وصال شریف، آپ کا غسل شریف اور آپ کا قبر انور میں رونق افروز ہونا ہر بات آپ کی ممتاز ہے اور کوئی شخص کسی بات میں آپ کا مثل نہیں۔

تبصرے