نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حکایت ‏نمبر ‏31 ‏ ‏ ‏شیر ‏خوار ‏بچے ‏کا ‏اعلان ‏حق

     حضور سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں تشریف فرما تھے کہ ایک مشرکہ عورت جس کی گود میں دو ماہ کا شیر خوار بچہ تھا اس طرف سے گزری اس بچے نے حضور کی طرف نظر کی تو یکدم بزبان فصیح پکار اٹھا:
             اَلسَّلَامَ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ وَ یَا اَک٘رَمَ خَلقِ الّٰلهِ

     ماں نے جب دیکھا کہ میرا دو ماہ کا بچہ کلام کرنے لگا ہے تو حیران رہ گئی اور بولی بیٹا! یہ کلام کرنا تجھے کس نے سکھا دیا؟ اور یہ اللہ کے رسول ہے، یہ تجھے کس نے بتا دیا؟ بچہ اپنی ماں سے مخاطب ہوکر کہنے لگا اے ماں! یہ کلام کرنا مجھے اسی اللہ نے سکھایا ہے جس نے سب انسانوں کو یہ طاقت دی ہے اور یہ دیکھ میرے سر پر جبریل امین کھڑے ہیں جو مجھے بتارہے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں ماں نے یہ اعجاز دیکھا تو جھٹ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔ مولانا رومی علیہ الرحمتہ مثنوی شریف میں فرماتے ہیں کہ پھر حضور نے اس بچے کو مخاطب فرمایا اور دریافت فرمایا کہ تمھارا نام کیا ہے ؟ تو وہ بولا_
  عبد عزیٰ پیش ایں یکمشت چیز
لیکن نامم پیش حق عبد العزیز
یعنی یارسول اللہ! اس مشت خاک ماں کہ نزدیک تو میرا نام عبد عزیٰ ہے لیکن اللہ کے نزدیک میرا نام عبد العزیز ہے
(نزہتہ المجالس صـــ78 جلد2)

سبق: ایک دو ماہ کا بچہ  تو حضور کو جان اور مان لے اور اپنی ماں کو بھی جنت میں لے جائے مگر افسوس ان عمر رسیدہ بد بختوں پر جنہوں نے حضور کو نہ جانا نہ مانا اور اپنی جہالت و گستاخیوں سے خود بھی ڈوبے اور دوسروں کو بھی لے ڈوبے ۔

تبصرے

Popular Posts

حکایت ‏نمبر ‏29 ‏ ‏ ‏ ‏جنگل ‏کی ‏ہرنی

    ایک جنگل میں ایک ہرنی رہتی تھی اس کے دو بچے تھے ایک بار وہ باہر نکلی تو کسی شکاری نے راہ میں جال بچھا رکھا تھا بے خبر ہرنی اس جال میں پھنس گئی جب اس نے دیکھا کہ میں تو پھنس گئی ہوں تو بڑی پریشان ہوئی اس کی خوش قسمتی دیکھئے کہ اسی جنگل میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہوئے اسے نظر آئے جب اس نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پکاری یارسول اللہ! مجھ پر رحم فرمائیے حضور نے اس کی پکار سنی اور اس کے پاس تشریف لاکر فرمایا کیا حاجت ہے؟ وہ بولی حضور! میں اس اعرابی کے جال میں پھنس گئی ہوں میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو اس قریب کے پہاڑ میں ہیں تھوڑی دیر کی لئے آپ میری ضمانت دے کر اس جال سے مجھے آزاد کردیجئے تاکہ میں آخری بار ایک مرتبہ بچوں کو دودھ پلاآؤں ، حضور میں دودھ پلاکر  پھر یہیں واپس آجاؤں گی، حضور نے فرمایا اچھا جا میں تمہاری ضمانت دیتا ہوں اور تمہاری جگہ یہیں ٹھہرتا ہوں، پچوں کو دودھ پلاکر جلدی واپس آجانا۔ چنانچہ ہرنی کو آپ نے رہا کردیا اور وہاں خود قیام فرما ہوگئے ۔      اعرابی جو مسلمان نہ تھا کہنے لگا، اگر می...

حکایت نمبر 56 شیطان کا تھوک

خدا نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا مبارک تیار فرمایا تو فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے اس پتلے مبارک کی زیارت کرتے تھے ۔مگر شیطان لعین حسد کی آگ میں جل بھن گیا۔ اور ایک مرتبہ اس مردود نے بغض و کینہ میں آکر حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے مبارک پر تھوک دیا یہ تھوک حضرت آدم علیہ السلام کی ناف مبارک کے مقام پر پڑی ۔ خداتعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس جگہ سے اتنی مٹی نکال کر اس مٹی کا کتا بنادو ۔     چنانچہ اس شیطانی تھوک سے ملی ہوئی مٹی کا کتا بنادیا گیا۔ یہ کتا آدمی سے مانوس اس لئے ہے، کہ مٹی حضرت آدم علیہ السلام کی ہے ، اور پلید اس لئے ہے کہ تھوک شیطان کا ہے ، اور رات کو جاگتا اس لئے ہے کہ ہاتھ اسے جبریل کے لگے ہیں.  (1روح البیان صــ68 جلد )  *ســبق*: شیطان کے تھوکنے سے حضرت آدم علیہ السلام کا کچھ نہیں بگڑا ، بلکہ مقام ناف شکم کے لئے وجہ زینت بن گیا۔ اسی طرح اللہ والوں کی بارگاہ میں گستاخی کرنے سے ان اللہ والوں کا کچھ نہیں بگڑتا ، بلکہ ان کی شان اور چمکتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ والوں کو حسد و نفرت کی نگاہ سے دیکھنا شیطانی کام...

حکایت نمبر 61 حضرت ابراہیم علیہ السلام اور چار پرندے

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روز سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا ہوا دیکھا ۔آپ نے دیکھا کہ سمندر کی مچھلیاں اس کی لاش کھارہی ہیں ۔اور تھوڑی دیر کے بعد پھر پرندے آکر اس لاش کو کھانے لگے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ جنگل کے کچھ درندے آئے اور وہ بھی اس لاش کو کھانے لگے۔آپ نے یہ منظر دیکھا تو آپ کو شوق ہوا کہ (آپ ملاحظہ فرمائیں ) کہ مردے کس طرح زندہ کئے جائے گے چنانچہ آپ نے خدا سے عرض کیا ۔ الٰہی! مجھے یقین ہے کہ تو مردوں کو زندہ فرمائے گا ۔ اور ان کے اجزاء دریائی جانوروں پرندوں اور درندوں کی پیٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں ۔خدا نے فرمایا اچھا اے خلیل ! تم چار پرندے لے کر انہیں اپنے ساتھ ملالو تاکہ اچھی طرح انکی شناخت ہو جائے پھر انہیں ذبح کرکے ان کے اجزاء باہم ملا جلا کر انکا ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو اور پھر انکو بلاؤ اور دیکھو وہ کس طرح زندہ ہوکر تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔                   چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مور، کبوتر، مرغ اور کوا یہ چار پرندے لئے اور انہیں ذبح کیا ۔اور ان...