نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

حکایت نمبر17 ایک ‏صحرائی ‏قافلہ

     عرب کے ایک صحرا میں ایک بہت بڑا قافلہ راہ پیما تھا کہ اچانک اس قافلہ کاپانی ختم ہوگیا اس قافلے میں چھوٹے بڑے بوڑھے جوان اور مرد عورتیں سبھی تھے پیاس کے مارے سب کا برا حال تھا اور دور تک پانی کا نشان تک نہ تھا اور پانی ان کے پاس ایک قطرہ تک باقی نہ رہا تھا یہ عالم دیکھ کر موت ان کے سامنے رقص کرنے لگی مگر ان پر یہ خاص کرم ہوا کہ؛
   
ناگہانی آں مغیث ہر دو کون 
مصطفے پیدا شدہ از بہر عون

       یعنی اچانک دوجہاں کہ فریاد رس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مدد فرمانے وہاں پہنچ گئے حضور کو دیکھ کر سب کی جان میں جان آگئی اور سب حضور کے گرد جمع ہوگئے، حضور نے انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ وہ سامنے جو ٹیلہ ہے اس کے پیچھے ایک سیاہ رنگ کا حبشی غلام اونٹنی پر سوار ہوئے جارہا ہے اس کے پاس پانی کا مشکیزہ ہے اس کو اونٹنی سمیت میرے پاس لے آؤ چنانچہ کچھ آدمی ٹیلے کے اس پار گئے تو دیکھا کہ واقعی ایک اونٹنی پر سوار حبشی جارہا ہے وہ اس حبشی کو حضور کے پاس لے آئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حبشی سے مشکیزہ لے لیا اور اپنا دست رحمت اس مشکیزہ پر پھیر کر اس کا منہ کھول دیا اور فرمایا، آؤ اب جس قدر بھی پیاسے ہو آتے جاؤ اور پانی پی پی کر اپنی پیاس بجھاتے جاؤ چنانچہ سارے قافلے نے اس ایک مشکیزہ سے جاری چشمۂ رحمت سے پانی پینا شروع کیا اور پھر سب نے اپنے اپنے برتن بھی بھر لئے، سب کے سب سیراب ہوگئے اور سب برتن بھی پُر آب ہوگئے حضور کا یہ معجزہ دیکھ کر وہ حبشی حیران ہوا اور حضور کے دست انور چومنے لگا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست انور اس کے منہ پر پھیرا تو؛

شد سپیدآں زنگی زادۂ حبش
بمچو بدرو روزِدرشن شد شبش

     اس حبشی کا کا سیاہ رنگ کافور ہوگیا اور وہ سفید پر نور ہوگیا پھر اس حبشی نے کلمہ پڑھ کر اپنا دل بھی منور کرلیا اور مسلمان ہوکر جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچا تو مالک نے پوچھا تم کون ہو؟ وہ بولا تمھارا غلام ہوں، مالک نے کہا تم غلط کہتے ہو، وہ تو بڑا سیاہ رنگ کا تھا، وہ بولا ٹھیک ہے مگر میں اس منبعِ نور ذات با برکات سے مل کر اور اس پر ایمان لاکر آیا ہوں جس نے ساری کائنات کو منور فرما دیا ہے مالک نے سارا قصہ سنا تو وہ بھی ایمان لے آیا ۔
( مثنوی شریف )

سبق: ہمارے حضور باذن اللہ دوجہاں کے فریاد رس ہیں اور مصیبت کے وقت مدد فرمانے والے ہیں پھر اگر کوئی شخص یوں کہے کہ حضور کسی کی مدد نہیں فرماسکتے اور کسی کی فریاد نہیں سنتے تو وہ کس قدر جاہل و بے خبر ہے بس اپنا عقیدہ یہ رکھنا چاہیے

     فریاد امتی جو کرے حال زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو

  1. اعلی حضرت؛

تبصرے

Popular Posts

حکایت ‏نمبر ‏29 ‏ ‏ ‏ ‏جنگل ‏کی ‏ہرنی

    ایک جنگل میں ایک ہرنی رہتی تھی اس کے دو بچے تھے ایک بار وہ باہر نکلی تو کسی شکاری نے راہ میں جال بچھا رکھا تھا بے خبر ہرنی اس جال میں پھنس گئی جب اس نے دیکھا کہ میں تو پھنس گئی ہوں تو بڑی پریشان ہوئی اس کی خوش قسمتی دیکھئے کہ اسی جنگل میں حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہوئے اسے نظر آئے جب اس نے حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو پکاری یارسول اللہ! مجھ پر رحم فرمائیے حضور نے اس کی پکار سنی اور اس کے پاس تشریف لاکر فرمایا کیا حاجت ہے؟ وہ بولی حضور! میں اس اعرابی کے جال میں پھنس گئی ہوں میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جو اس قریب کے پہاڑ میں ہیں تھوڑی دیر کی لئے آپ میری ضمانت دے کر اس جال سے مجھے آزاد کردیجئے تاکہ میں آخری بار ایک مرتبہ بچوں کو دودھ پلاآؤں ، حضور میں دودھ پلاکر  پھر یہیں واپس آجاؤں گی، حضور نے فرمایا اچھا جا میں تمہاری ضمانت دیتا ہوں اور تمہاری جگہ یہیں ٹھہرتا ہوں، پچوں کو دودھ پلاکر جلدی واپس آجانا۔ چنانچہ ہرنی کو آپ نے رہا کردیا اور وہاں خود قیام فرما ہوگئے ۔      اعرابی جو مسلمان نہ تھا کہنے لگا، اگر می...

حکایت نمبر 56 شیطان کا تھوک

خدا نے جب حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا مبارک تیار فرمایا تو فرشتے حضرت آدم علیہ السلام کے اس پتلے مبارک کی زیارت کرتے تھے ۔مگر شیطان لعین حسد کی آگ میں جل بھن گیا۔ اور ایک مرتبہ اس مردود نے بغض و کینہ میں آکر حضرت آدم علیہ السلام کے پتلے مبارک پر تھوک دیا یہ تھوک حضرت آدم علیہ السلام کی ناف مبارک کے مقام پر پڑی ۔ خداتعالی نے حضرت جبریل علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس جگہ سے اتنی مٹی نکال کر اس مٹی کا کتا بنادو ۔     چنانچہ اس شیطانی تھوک سے ملی ہوئی مٹی کا کتا بنادیا گیا۔ یہ کتا آدمی سے مانوس اس لئے ہے، کہ مٹی حضرت آدم علیہ السلام کی ہے ، اور پلید اس لئے ہے کہ تھوک شیطان کا ہے ، اور رات کو جاگتا اس لئے ہے کہ ہاتھ اسے جبریل کے لگے ہیں.  (1روح البیان صــ68 جلد )  *ســبق*: شیطان کے تھوکنے سے حضرت آدم علیہ السلام کا کچھ نہیں بگڑا ، بلکہ مقام ناف شکم کے لئے وجہ زینت بن گیا۔ اسی طرح اللہ والوں کی بارگاہ میں گستاخی کرنے سے ان اللہ والوں کا کچھ نہیں بگڑتا ، بلکہ ان کی شان اور چمکتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ والوں کو حسد و نفرت کی نگاہ سے دیکھنا شیطانی کام...

حکایت نمبر 61 حضرت ابراہیم علیہ السلام اور چار پرندے

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک روز سمندر کے کنارے ایک آدمی مرا ہوا دیکھا ۔آپ نے دیکھا کہ سمندر کی مچھلیاں اس کی لاش کھارہی ہیں ۔اور تھوڑی دیر کے بعد پھر پرندے آکر اس لاش کو کھانے لگے۔ پھر آپ نے دیکھا کہ جنگل کے کچھ درندے آئے اور وہ بھی اس لاش کو کھانے لگے۔آپ نے یہ منظر دیکھا تو آپ کو شوق ہوا کہ (آپ ملاحظہ فرمائیں ) کہ مردے کس طرح زندہ کئے جائے گے چنانچہ آپ نے خدا سے عرض کیا ۔ الٰہی! مجھے یقین ہے کہ تو مردوں کو زندہ فرمائے گا ۔ اور ان کے اجزاء دریائی جانوروں پرندوں اور درندوں کی پیٹوں سے جمع فرمائے گا لیکن میں یہ عجیب منظر دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں ۔خدا نے فرمایا اچھا اے خلیل ! تم چار پرندے لے کر انہیں اپنے ساتھ ملالو تاکہ اچھی طرح انکی شناخت ہو جائے پھر انہیں ذبح کرکے ان کے اجزاء باہم ملا جلا کر انکا ایک ایک حصہ ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو اور پھر انکو بلاؤ اور دیکھو وہ کس طرح زندہ ہوکر تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آتے ہیں۔                   چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مور، کبوتر، مرغ اور کوا یہ چار پرندے لئے اور انہیں ذبح کیا ۔اور ان...